بنگلورو،20؍جون (ایس او نیوز) خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) نے جرائم کی دنیا کے سرغنہ روی پجاری کو 10 دن کے لئے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ وہ اس سے منگلورو سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق وکیل نوشاد قاسمجی کے قتل کے سلسلہ میں پوچھ گچھ کرے گی۔
نوشاد قاسمجی کو 2 ؍لوگوں نے 9 ؍ اپریل 2009 کو منگلورو میں گولی چلا کر قتل کردیا تھا ۔ انہوں نے داؤد ابراہیم کے کئی ساتھیوں کی نمائندگی کی تھی۔ ملپے میں پیدا ہوئے روی پجاری نے کبھی داؤد ابراہیم کے لئے کام کیا تھا لیکن بعدازاں وہ الگ ہوگیا تھا۔ نوشاد قاسمجی نے عبدالرشید حسن (ملباری) کی بھی نمائندگی کی تھی جسے داؤد ابراہیم گینگ کا شارپ شوٹر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے قتل سے کئی دن پہلے ہی سے وکیل نوشاد قاسمجی کو روی پجاری کی جانب سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملی تھی جو اس وقت کسی بیروانی ملک میں چھپا ہوا تھا۔ سینگال سے نکال باہر کئے جانے کے بعد بنگلورو پولیس نے اسے فوری میں شہر لا یا تھا۔ سٹی کرائم برانچ ( سی سی بی ) کے سربراہ سندیپ پاٹل کی قیادت والی ایس آئی ٹی ایسے 97 معاملات کی چھان بین کررہی ہے جن میں روی پجاری ملوث ہے۔ ان میں سے 47 بنگلورو سے تعلق رکھتے ہیں۔
کرناٹک پولیس کے سربراہ پر اوین سود نے نوشاد قاسمجی قتل معاملہ بھی ایس آئی ٹی کو منتقل کردیا ہے۔ بروز چہارشنبہ خصوصی ٹیم نے پجاری کو حراست میں لیا۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کہا ، ’’ وکیل کے قتل میں اس کےرول کے بارے میں ہمارے پاس کچھ ثبوت ہیں اور اسی لئے ہم اس سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔ امید ہے کہ ہم آئندہ 10 دن کے اندر کسی نتیجہ پر پہنچ جا ئیں گے۔ ‘‘
منگلورو کی ایک سیشنس عدالت نے اس قتل کے لئے 5 م۔لزمین دنیش شیٹی، پرتاپ، شیٹی، رتیش ایل، سبرامنیا اور گنیش کو مجرم قرار دیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے 2018 میں ان تمام کو بری کردیا ۔ چونکہ روی پجاری فرار تھا، پولیس اس کے خلاف ایک افزود فرد جرم دائر کرے گی۔